Archives

TF Team meeting with district management Quetta for e-Schools services

On an invitation, Mr Asim Mushtaq CEO and Ms. Shagufta Noreen COO Taaleem Foundation visited the district government office at Quetta. Ms. Humaira Baloch AC Saddar Quetta conducted the meeting. She was briefed about the possibility and suitability of e-Learning solutions during the COVID-19, including online classes for secondary and higher secondary school students. She offered a field visit to some remote areas like Panjpai, where the schools needed more attention. She suggested to design some customized solution for non-operational schools and discussed about upgrading some schools with missing facilities and e-Learning solution.

Agreement Signing with Ujala Foundation

Taaleem Foundation inks an MOU with Ujala Education Foundation for collaborative efforts in developing the productive and employable human resource in Kashmir. Focus on international exposure, paid internship abroad and global employability.

Visit of skill centre, Adhi

Ms. Shagufta Noreen (Chief Operating Officer), Mr. Sajid Munir (Chief Financial Officer)  and Mr. Farooq Azam (Manager Services) visited Adhi’s skill Centre on 20th August 2020. This is one of the best CSR initiates of PPL around their GSD field and being run by “Behbud”. The objective of this visit to have an idea of  its operational management and replicating the same model to the skill centre, Sui.

آئوٹ آف سکول مہم کے پہلے مرحلے کی کامیابی پر کنونشن کا انعقاد

اسلام آباد(نا مہ نگار)سرکاری تعلیمی اداروں میں آئوٹ آف سکول بچوں کے داخلوں کے پہلے مرحلے کی کامیابی پر سہالہ سیکٹر میں کنونشن کا انعقاد،اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے یونیسکو کے تعاون سے تعلیم فانڈیشن نے تین فیڈرٹیچرز کے کنٹریکٹ ایریا ایجوکیشن آفیسرکے حوالے کر دئیے،اے ای او نازمین سہیل کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں سہالہ سیکٹر میں اہداف سے بڑھ کر بچوں کو داخل کیے ہیں،تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ماڈل سکول سہالہ میں منعقدہ کنونشن میں سیکٹر کے اداروں کے سربراہان اور بچوں کو مدعو کیا گیا تھا جہاں بچوں نے خوبصورت ٹیبلوز اور ملی نغموں پر پرفارمنس کا مظاہرہ کیا،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایریاایجوکیشن آفیسر نازمین سہیل کا کہنا تھا آئوٹ آف سکول بچوں کے داخلوں میں کمیونٹی کا کردار اہم ہے سروے کے مطابق 1342رجسٹرڈ آٹ آف سکول بچوں کاٹارگٹ مکمل کرنے میں تعلیم فانڈیشن سمیت غیر سرکاری تنظیموں کا کردار کسی صورت نہیں جھٹلایا جا سکتا۔

مل کر بنا رہے ہیں ”روشن بلوچستان“

تحریر:زبیر عارفی
جب ہم تعلیم کے میدان میں بلوچستان کا دوسرے صوبوں سے تقابلی جائزہ لیتے ہیں تو یہ جان کر انتہائی دکھ ہوتا ہے کہ، بلوچستان تعلیم، صحت اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم اور سب سے پسماندہ صوبہ ہے۔مملکت خداداد پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت بلوچستان میں تعلیمی خواندگی کی شرح انتہائی کم ہے۔ بلوچستان کا تعلیمی معیار پاکستان کے چاروں صوبوں میں سب سے زیادہ خراب ہے۔دور دراز علاقوں میں تو تعلیمی اداروں کی عمارتیں جانوروں کی پرورش کیلئے استعمال ہوتی رہی ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے بلوچستان کی عوام کو تعلیم اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیوں رکھا گیا تو اس کا جواب یہ ہی ہے کہ بلوچستان کی عوام میں شرح خواندگی نہ ہونے کی بنا پر اپنے بنیادی حقوق کے لیے شعور اجاگر نہ ہو سکا۔جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ پاسماندگی کی زندگی گزارنے پر مجبور رہے اور ہیں۔پاکستان میں تعلیم سمیت بنیادی انسانی حقوق فراہم کرنے کے لیے مختلف سماجی ادارے مصروف عمل ہیں ان ہی میں سے ایک تعلیم فاؤنڈیشن ہے۔تعلیم فاؤنڈیشن کا قیام1989 میں پنجاب کے ایک سینئر بیوروکریٹ ڈاکٹر ظفر اقبال قادر نے بلوچستان میں عمل میں لایا۔بلوچستان کے ہونہاروں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے ظفر اقبال بلوچستان کی عوام کے لیے مسیحا بن کر آئے۔
پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ(پی پی ایل)تعلیم فاؤنڈیشن کا اب تک سب سے بڑا CSRپارٹنر ہے۔پی پی ایل ویلفیئر ٹرسٹ نے سوئی بلوچستان میں تعلیم فاؤنڈیشن کے تعلیمی پروجیکٹس میں جو کردار ادا کیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے، تعلیم فاؤنڈیشن نے پی پی ایل کے تعاون سے سوئی بلوچستان میں ورچوئل یونیورسٹی کا قیام بھی عمل میں لایا تا کہ سوئی بلوچستان کے بچے بھی تعلیم حاصل کر سکیں اور ایسی معیاری تعلیم حاصل کریں جو اسلام آباد کے عوام کے لیے ہے ویسی ہی سوئی بلوچستان کی عوام کے لیے ہو۔ورچوئل یونیورسٹی کے نجی کیمپس کی تعمیر کرنے کا بنیادی مقصد یہ تا کہ پسماندہ علاقے کے نوجوانوں کو جدید تعلیم کی فراہمی یقینی بنائے جا سکے۔اس کے علاوہ پی پی ایل نے سوئی گرامر سکول کی عمارت کی تعمیر۔اساتذہ کا ہاسٹل،عملے کی رہاش بھی تعمیر کیے جن پر سوئی کی عوام ان کی شکر گزار ہے۔ تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے تعلیم فاؤنڈیشن نے پی پی ایل کے تعاون سے سوئی میں ووکیشنل ٹریننگ انسٹیوٹ کا قیام بھی عمل میں لایا ہے جس سے سینکڑوں نوجوان ہنر مند بن کر اپنا مستقبل روشن کر چکے ہیں۔
پاکستان پٹرولیئم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے سماجی ذمہ داری پروگرام (سی ایس آر) کی تاریخ 1950 کی دہائی میں سوئی میں پی پی ایل کے تجارتی بنیادوں پر کاروبار کے آغاز سے جا ملتی ہے جب کمپنی نے کارکنوں اور مقامی آبادی کے لیے بچوں کا ایک اسکول تعمیر کیا تھا۔ اس وقت سے سی ایس آر پروگرام پی پی ایل کی کاروباری اقدار کا مرکزی جز رہا ہے۔
2001 میں کمپنی کے سی ایس آر پروگرام کو جغرافیائی وسعت اور موضوعاتی تنوع دینے کے لئے پی پی ایل ویلفیئر ٹرسٹ (پی پی ایل ڈبلیو ٹی) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس وقت پی پی ایل کا سماجی بھلائی پروگرام ملک بھر، بالخصوص جہاں کمپنی تیل وگیس کی تلاش و دریافت کا کام کرتی ہے کے اردگرد کے علاقوں، میں مقیم افراد کی تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، پسماندہ آبادیوں کی سماجی و اقتصادی حالت کو بہتر بنانیاور قدرتی آفات کے بعد بحالی کے اقدامات پر مبنی ہے۔ملک کے انتہائی دور دراز اور مشکل گذار علاقوں میں سماجی ترقی اور فلاح و بہبود کی خدمات فراہم کرنے والے اہم ترین اداروں میں سے ایک کی حیثیت سے پی پی ایل کو 2004سے 2014تک مسلسل 11 سال پاکستان سینٹر برائے فلینتھراپی کی جانب سے کارپوریٹ فلینتھراپی ایوارڈ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔
بلوچستان کے انتہائی پاسماندہ اضلاع کے غریب بچوں کو جدید تعلیم مہیا کرنے کے لیے تعلیم فاؤنڈیشن نے ہر سطح پر جدو جہد کی۔تعلیم فاؤنڈیشن کے سکول، کوہلو،زوہب، قلعہ سیف اللہ،مسلم باغ،لورالائی،پشین،مستونگ اورسوئی(ڈیرہ بگٹی) میں بچوں کو جدید تعلیم بذریعہ جدید ٹیکنالوجی فراہم کر رہے ہیں،خواتین کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے تعلیم فاؤنڈیشن نے سوئی ڈیرہ بگٹی میں ووکیشنل ٹرینگ انسٹیٹیوٹ کا قیام بھی عمل میں لایا ہے،جبکہ سوئی کے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے بھی ہنر مندی کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔اس وقت تعلیم فاؤنڈیشن کے سکولوں سے فارغ ہو کر 12سو سے زائد بچے اعلی تعلیم ملکی اور غیر ملکی جامعات میں حاصل کر رہے ہیں ان میں ڈاکٹر،انجینئر،بزنس ایڈمنسٹریشن سمیت ہر شعبے میں تعلیم حاصل کر رہے۔جبکہ اب تک تعلیم فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام چلنے والے ووکیشنل ٹرینگ انسٹیٹیوٹ سے بھی سینکڑوں افرادہنر مند بن کر با عزت روزگار کر رہے ہیں۔
پی پی ایل نے سوئی کی خواتین کو معاشی طور پر با اختیار بنانے کے لیے ویمن ویلفیئر سنٹر کا قیام عمل میں لایا اور 09 سال (2006 سے 2015) تک اس سنٹر سے سینکڑوں خواتین معاشی طور پر خود مختار بنیں اور اب وہ اپنے گھرانوں کی کفالت کا ذریعہ ہیں۔ ابتدائی طور پر، اس سنٹر کو پی پی ایل کی مالی مدد سے فرنٹیئر کور نے چلایا اور اس کا انتظام کیا جبکہ بلڈنگ کا سامان، فرنیچر بھی پی پی ایل نے عطیہ کیاتا کہ مقامی خواتین خود انحصار اور بااختیار بن سکیں۔بعدازاں، ڈبلیوڈبلیو سی کو اپنی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے تعلیم فاؤنڈیشن (ٹی ایف) کے حوالے کیا گیا اور سوئی میں ٹی ایف کے احاطے میں ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (وی ٹی آئی) تعمیر کیا گیا جو کہ ایک عظیم منصوبہ ہے۔
اس ووکیشنل ٹریننگ سنٹر میں کھانا پکانے، بیکنگ، سلائی، کڑھائی، مصوری گرافک ڈیزائننگ اور کمپیوٹر کی تربیت کے ساتھ ساتھ بچوں اور وی ٹی آئی طلباء کے لئے آڈیٹوریم بھی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم فاؤنڈیشن کے زیر انتظام، سوئی میں تعلیم فاؤنڈیشن گرامر اسکول (ٹی ایف جی ایس) 1994 میں ڈیرہ بگٹی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں مقامی طلباء خصوصا لڑکیوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لئے سرگرم عمل ہے۔ابتدا میں، TFGS سوئی گیس فیلڈ کے پاس ہی پی پی ایل کی جانب سے فراہم کردہ احاطے میں واقع تھا۔ بڑھتی ہوئی اندراج اور بنیادی ڈھانچے کی حدود کی وجہ سے، پی پی ایل نے اسکول کے لئے فرنشڈ اسکول عمارت مہیا کرنے کا فیصلہ کیا جو 2006 کے اوائل میں مکمل ہوئی۔مقامی پسماندہ اور غریب لوگوں کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے اپنے عزم کو پورا کرنے کے لئے پی پی ایل، تقریبا دو دہائیوں سے ٹی ایف جی ایس، سوئی کی مدد کر رہی ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے علاوہ کے، پی پی ایل طلباء اور اساتذہ دونوں کے لئے آمدورفت مہیا کرتا ہے۔ TFGS اساتذہ بھی SFH میں مفت طبی علاج حاصل کرتے ہیں۔تعلیم فاؤنڈیشن، اپنے ہم جہتی کارپوریٹ پی پی ایل کے سماجی ذمہ داری پروگرام کے ذریعے صحتِ، تعلیم اور روزگار کی فراہمی کے ذریعے پسماندہ طبقے کا معیار ِ زندگی بلند کرنے کے لئے پرُعزم ہے۔ضروت اس امر کی ہے کہ بلوچستان کے نوجوانو ں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کرنے کے لیے مزید اقدامات اٹھائے جائیں۔
فنی تعلیم و تربیت کی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ فنی تعلیم و تربیت یافتہ نوجوانوں کو لیبر مارکیٹ میں روزگار دیا جائے مرکزی اور صوبائی حکومتیں گلگت بلتستا ن اور آزاد کشمیر کی حکومتوں،پالیسی ساز اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فنی تعلیم و تربیت کی فراہمی کے لیے کم از کم قومی آمدنی کا 10فیصد خرچ کریں اور معیاری فنی تعلیم و تربیت کے ادارے قائم کر کے فنی ماہرین کو قومی و صوبائی سطح پر کوریا جاپان جرمنی کی طرح سالانہ مقابلہ منعقد کر کے ماہرین کی حوصلہ افزائی کی جائے۔پاکستان کی معاشی ترقی اور غربت کے خاتمے کے لیے ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹرینگ بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

 

Government prepares National Education Policy

Minister for Federal Education and Professional Training Shafqat Mehmood, has said that enrollment of 25 million out of school children, provision of quality education, skill development, and uniformed syllabus will be the four pillars of the national education policy.

He expressed these views while unveiling the National Education Policy framework in Islamabad on Monday.

The Minister said the federal government has prepared the National Education Policy and enrollment of 25 million out of school children is its foremost target.

Shafqat Mehmood said smart schools will be introduced with the help of technology to overcome shortage of teachers.

He said education volunteers programme will also be launched soon.

The Minister said that teachers’ training programme will be started and the National Skill University will also be established in Islamabad.

TF CEO meets DC Quetta for e-school services

On an invitation, Mr Asim Mushtaq CEO and Ms. Shagufta Noreen COO Taaleem Foundation visited the district government office at Quetta. Ms. Humaira Baloch AC Saddar Quetta conducted the meeting. She was briefed about the possibility and suitability of e-Learning solutions during the COVID-19, including online classes for secondary and higher secondary school students. She offered a field visit to some remote areas like Panjpai, where the schools needed more attention. She suggested to design some customized solution for non-operational schools and discussed about upgrading some schools with missing facilities and e-Learning solution.

بلوچستان کے بچے تعلیم سے محروم کیوں؟

قوموں کے عروج و زوال میں تعلیم کا کردار ہمیشہ سے بنیادی رہا ہے۔ اور یہ قانون فطرت بن چکا ہے کہ جس قوم نے تعلیم کے میدان میں ترقی کی دنیا کی حکمرانی کا حق بھی اسی کو عطا ہوا۔تعلیم کے بغیر کوئی بھی معاشرہ امن کا گہوارہ نہیں بن سکتا ۔تعلیم یافتہ قومیں ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہیں۔قیام پاکستان کے بعد کئی عشروں تک تعلیم بنیادی ترجیحات میں شامل نہیں رہی،جب ترجیحات میں شامل کی گئی تو نظام تعلیم کو تب سے اب تک بہتر نہیں کیا جا سکا۔

ہمارا تعلیمی نظام زبوں حالی کا شکار ہے۔ہمارا ملک اس وقت تعلیمی اعتبار سے دنیا میں بہت پیچھے ہے۔پاکستان میں شرح خواندگی صرف 58فیصد ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ شرح خواندگی مزید کم ہو کر 41فیصد رہ جاتی ہے۔اس وقت پاکستان میں سکول جانے والی عمر کے 2کروڑ 28 لاکھ40ہزار بچے سکولوں سے باہر ہیں اور بلوچستان میں ان بچوں کی تعداد تقریباً 23 لاکھ ہے۔بلوچستان میں اسکول نہ جانے والے بچوں میں لڑکیوں کی شرح زیادہ ہے۔ 5 سے 16 سال کی عمر کی 62 فیصد لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔ پرائمری اسکولوں میں لڑکیوں کے داخلے کی شرح 35 فیصد ہے۔ جوکہ ہائی اسکول تک پہنچتے پہنچتے صرف 4 فیصد رہ جاتی ہے۔

جب ہم تعلیم کے میدان میں بلوچستان کا دوسرے صوبوں سے تقابلی جائزہ لیتے ہیں تو یہ جان کر انتہائی دکھ ہوتا ہے کہ، بلوچستان تعلیم، صحت اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم اور سب سے پسماندہ صوبہ ہے۔مملکت خداداد پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت بلوچستان میں تعلیمی خواندگی کی شرح انتہائی کم ہے۔ بلوچستان کا تعلیمی معیار پاکستان کے چاروں صوبوں میں سب سے زیادہ خراب ہے۔دور دراز علاقوں میں تو تعلیمی اداروں کی عمارتیں جانوروں کی پرورش کیلئے استعمال ہوتی رہی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے بلوچستان کی عوام کو تعلیم اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیوں رکھا گیا تو اس کا جواب یہ ہی ہے کہ بلوچستان کی عوام میں شرح خواندگی نہ ہونے کی بنا پر اپنے بنیادی حقوق کے لیے شعور اجاگر نہ ہو سکا۔جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ پسماندگی کی زندگی گزارنے پر مجبور رہے اور ہیں۔پاکستان میں تعلیم سمیت بنیادی انسانی حقوق فراہم کرنے کے لیے مختلف سماجی ادارے مصروف عمل ہیں ان ہی میں سے ایک تعلیم فاؤنڈیشن ہے۔

تعلیم فاؤنڈیشن کا قیام1989 میں پنجاب کے ایک سینئر بیوروکریٹ ڈاکٹر ظفر اقبال قادر نے بلوچستان میں عمل میں لایا۔بلوچستان کے ہونہاروں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے ظفر اقبال بلوچستان کی عوام کامسیحا بن کر آئے۔بلوچستان کے انتہائی پسماندہ اضلاع کے غریب بچوں کو جدید تعلیم مہیا کرنے کے لیے تعلیم فاؤنڈیشن نے ہر سطح پر جدو جہد کی۔تعلیم فاؤنڈیشن کے سکول، کوہلو،ژوب، قلعہ سیف اللہ،

مسلم باغ،لورالائی،پشین،مستونگ اورسوئی(ڈیرہ بگٹی) میں بچوں کو جدید تعلیم بذریعہ جدید ٹیکنالوجی فراہم کر رہے ہیں،خواتین کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے تعلیم فاؤنڈیشن نے سوئی ڈیرہ بگٹی میں ووکیشنل ٹرینگ انسٹیٹیوٹ کا قیام بھی عمل میں لایا ہے،جبکہ سوئی کے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے بھی تربیت فراہم کی جا رہی ہے جس میں کمپیوٹر کی ٹرینگ بھی شامل ہے۔

اس سب کا ذکر کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم جس پوزیشن میں بھی ہیں، تعلیم کو عام کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں،جو بچے سکولوں میں نہیں جاتے ان کے والدین میں شعور اجاگر کریں۔اور انفرادی طور پراگر کسی سکول میں کوئی بنیادی سہولت نہیں تو اس سہولت کی فراہمی کے لیے کوشش کریں۔ہمارے تعلیمی نظام میں بہت سارے نقائص ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام جدید خطوط پر استوار نہیں ہے۔

جدت ہی ایسی چیز ہے جو بچوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہے،اگربلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں تعلیم فاؤنڈیشن ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم فراہم کر رہی ہے تو ملک بھر کے پسماندہ علاقوں کے سکولوں میں بھی بچوں کو ڈیجیٹل انٹرایکٹیووائٹ بورڈ کے ذریعے تعلیم فراہم کی جانے چاہیے،تا کہ جو پاکستان میں اڑھائی کڑوربچے سکولوں میں نہیں جا رہے وہ سکولوں میں جانے کی جانب راغب ہوں۔

اب فاقی دارالحکومت کے دیہی علاقوں میں ہزاروں بچے سکولوں میں نہیں جا رہے،ان میں سے سینکڑوں بچوں کو تعلیم فاؤنڈیشن نے یونیسکو کے تعاون سے سکولوں میں داخل کروایا جن کو مفت سکول بیگ، یونیفارم اور سٹیشنری سمیت کھیلوں کی ٹول کٹس بھی فراہم کی گئی تا کہ وہ تعلیم یافتہ بن جائیں۔ فاؤنڈیشن نے وفاقی تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم دینے کا منصوبہ بھی شروع کر رکھا ہے،ابتدائی طور پر یہ منصوبہ وفاقی نظامت تعلیمات کے آٹھ سکولوں میں شروع کر رکھا ہے جس میں سے چار دیہی اور چار شہری علاقوں کے سکولوں میں ڈیجیٹل بورڈ تنصیب کیے گے ہیں جبکہ مزید سکولوں میں بھی ڈیجیٹل بورڈ تنصیب کیے جائیں گے۔

ان بورڈز کی تنصیب کے بعد انرولمنٹ میں اضافہ ہو رہا ہے۔اب امید کی جاسکتی ہے کہ جواڑھائی کڑوربچے سکولوں میں نہیں جا رہے، موجودہ حکومت ان کو تعلیم دلوانے کے لیے عملی حکمت عملی مرتب کرے گی۔موجودہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی جانب سے آؤٹ آف سکول چلڈرن کو سکولوں میں داخل کروانے کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات لائق تحسین ہیں۔جب تک ہم تعلیم یافتہ قوم نہیں بنتے تب تک ہم مسائل کی دلدل میں پھنسے رہیں گے۔

اگر ہم نے اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے، تو تعلیمی ایمرجنسی نافذ کر کے تعلیم کو پہلی ترجیح دینی ہوگی۔معیاری اور جدید تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے جو ہمارے آئین نے ہمیں دیا ہے۔آئیں ہم اپنے بنیادی حق کے لیے جدو جہد کریں،اور ڈاکٹر ظفر اقبال قادر کو اپنا آئیڈیل بنا کر ملک کے درو دراز اور پاسماندہ علاقوں کے بچوں کو تعلیم مہیا کرنے کے لیے جدو جہد کریں۔

تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق

 

قوموں کے عروج و زوال میں تعلیم کا کردار ہمیشہ سے بنیادی رہا ہے۔ اور یہ قانون فطرت بن چکا ہے کہ جس قوم نے تعلیم کے میدان میں ترقی کی دنیا کی حکمرانی کا حق بھی اسی کو عطا ہوا۔تعلیم کے بغیر کوئی بھی معاشرہ امن کا گہوارہ نہیں بن سکتا ہے ۔تعلیم یافتہ قومیں ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ۔قیام پاکستان کے بعد کئی عشروں تک تعلیم بنیادی ترجیحات میں شامل نہیں رہی ،جب ترجیحات میں شامل کی گئی تو نظام تعلیم کو تب سے اب تک بہتر نہیں کیا جا سکا۔

ہمارا تعلیمی نظام زبوں حالی کا شکار ہے ۔ہمارا ملک اس وقت تعلیمی اعتبار سے دنیا میں بہت پیچھے ہے ۔پاکستان میں شرح خواندگی صرف 58فیصد ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ شرح خواندگی مزید کم ہو کر 41فیصد رہ جاتی ہے ۔اس وقت پاکستان میں سکول جانے والی عمروں کے 2کروڑ 28 لاکھ40ہزار بچے سکولوں سے باہر ہیں اور بلوچستان میں ان بچوں کی تعداد تقریباً 23 لاکھ ہے۔بلوچستان میں اسکول نہ جانے والے بچوں میں لڑکیوں کی شرح زیادہ ہے۔ 5 سے 16 سال کی عمر کی 62 فیصد لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔ پرائمری اسکولوں میں لڑکیوں کے داخلے کی شرح 35 فیصد ہے۔ جوکہ ہائی اسکول تک پہنچتے پہنچتے صرف 4 فیصد رہ جاتی ہے۔ جب ہم تعلیم کے میدان میں بلوچستان کا دوسرے صوبوں سے تقابلی جائزہ لیتے ہیں تو یہ جان کر انتہائی دکھ ہوتا ہے کہ، بلوچستان تعلیم، صحت اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم اور سب سے پسماندہ صوبہ ہے۔مملکت خداداد پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت بلوچستان میں تعلیمی خواندگی کی شرح انتہائی کم ہے۔ بلوچستان کا تعلیمی معیار پاکستان کے چاروں صوبوں میں سب سے زیادہ خراب ہے۔دور دراز علاقوں میں تو تعلیمی اداروں کی عمارتیں جانوروں کی پرورش کیلئے استعمال ہوتی رہی ہیں ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے بلوچستان کی عوام کو تعلیم اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیوں رکھا گیا تو اس کا جواب یہ ہی ہے کہ بلوچستان کی عوام میں شرح خواندگی نہ ہونے کی بنا پر اپنے بنیادی حقوق کے لیے شعور اجاگر نہ ہو سکا ۔جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ پاسماندگی کی زندگی گزارنے پر مجبور رہے اور ہیں۔پاکستان میں تعلیم سمیت بنیادی انسانی حقوق فراہم کرنے کے لیے مختلف سماجی ادارے مصروف عمل ہیں ان ہی میں سے ایک تعلیم فاؤنڈیشن ہے ۔تعلیم فاؤنڈیشن کا قیام1989 میں پنجاب کے ایک سینئر بیوروکریٹ ڈاکٹر ظفر اقبال قادر نے بلوچستان میں عمل میں لایا۔بلوچستان کے ہونہاروں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے ظفر اقبال بلوچستان کی عوام کامسیحا بن کر آئے۔بلوچستان کے انتہائی پاسماندہ اضلاع کے غریب بچوں کو جدید تعلیم مہیا کرنے کے لیے تعلیم فاؤنڈیشن نے ہر سطح پر جدو جہد کی۔تعلیم فاؤنڈیشن کے سکول، کوہلو ،زوہب، قلعہ سیف اﷲ، مسلم باغ،لورالائی،پشین ،مستونگ اورسوئی(ڈیرہ بگٹی ) میں بچوں کو جدید تعلیم بذریعہ جدید ٹیکنالوجی فراہم کر رہے ہیں،خواتین کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے تعلیم فاؤنڈیشن نے سوئی ڈیرہ بگٹی میں ووکیشنل ٹرینگ انسٹیٹیوٹ کا قیام بھی عمل میں لایا ہے ،جبکہ سوئی کے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے بھی ہنر مندی کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے جسمیں کمپیوٹر کی ٹرینگ بھی شامل ہے ۔اس وقت تعلیم فاؤنڈیشن کے سکولوں سے فارغ ہو کر 12سو سے زائد بچے اعلی تعلیم ملکی اور غیر ملکی جامعات میں حاصل کر رہے ہیں ان میں ڈاکٹر ،انجینئر ،بزنس ایڈمنسٹریشن سمیت ہر شعبے میں تعلیم حاصل کر رہے ۔جبکہ اب تک تعلیم فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام چلنے والے ووکیشنل ٹرینگ انسٹیٹیوٹ سے بھی سینکڑوں افرادہنر مند بن کر با عزت روزگار کر رہے ہیں ۔اس سب کا ذکر کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم جس پوزیشن میں بھی ہیں، تعلیم کو عام کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں،جو بچے سکولوں میں نہیں جاتے ہیں ان کے والدین میں شعور اجاگر کریں۔اور انفرادی طور پراگر کسی سکول میں کوئی بنیادی سہولت نہیں تو اس سہولت کی فراہمی کے لیے کوشش کریں ۔ہمارے تعلیمی نظام میں بہت سارے نقائص ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام جدید خطوط پر استوار نہیں ہے ،جدت ہی ایسی چیز ہے جو بچوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہے ،اگربلوچستان جیسے پاسماندہ صوبے میں تعلیم فاؤنڈیشن ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم فراہم کر رہی ہے تو ملک بھر کے پاسماندہ علاقوں کے سکولوں میں بھی بچوں کو ڈیجیٹل انٹرایکٹیووائٹ بورڈ کے زریعے تعلیم فراہم کی جانے چاہیے ،تا کہ جو پاکستان میں اڑھائی کڑوربچے سکولوں میں نہیں جا رہے ہیں وہ سکولوں میں جانے کی جانب راغب ہوں ۔اب فاقی دارالحکومت کے دہی علاقوں میں ہزاروں بچے سکولوں میں نہیں جا رہے ہیں ،ان میں سے سینکڑوں بچوں کو تعلیم فاؤنڈیشن نے یونیسکو کے تعاون سے سکولوں میں داخل کروایا جن کو مفت سکول بیگ، یونیفارم اور سٹیشنری سمیت کھیلوں کی ٹول کٹس بھی فراہم کی گئی تا کہ وہ تعلیم یافتہ بن جائیں۔ فاؤنڈیشن نے وفاقی تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم دینے کا منصوبہ بھی شروع کر رکھا ہے ،ابتدائی طور پر یہ منصوبہ وفاقی نظامت تعلیمات کے آٹھ سکولوں میں شروع کر رکھا ہے جسمیں سے چار دہی اور چار شہری علاقوں کے سکولوں میں ڈیجیٹل بورڈ تنصیب کیے گے ہیں جبکہ مزید سکولوں میں بھی ڈیجیٹل بورڈ تنصیب کیے جائیں گے ان بورڈز کی تنصیب کے بعد انرولمنٹ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔اب امید کی جاسکتی ہے کہ موجودہ حکومت جواڑھائی کڑوربچے سکولوں میں نہیں جا رہے ہیں ان کو تعلیم دلوانے کے لیے عملی حکمت عملی مرتب کرے گی ۔موجودہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی جانب سے آوٹ اف سکول چلڈرن کو سکولوں میں داخل کروانے کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات لائق تحسین ہیں ۔جب تک ہم تعلیم یافتہ قوم نہیں بنتے تب تک ہم مسائل کی دلدل میں پھنسے رہیں گے ،اگر ہم نے اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے، تو تعلیمی ایمرجنسی نافذ کر کے تعلیم کو پہلیترجیح دینی ہوگی ۔معیاری اور جدید تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق جو ہمارے آئین نے ہمیں دیا ہے ۔آئیں ہم اپنے بنیادی حق کے لیے جدو جہد کریں ،اور ڈاکٹر ظفر اقبال قادر کو اپنا آئیڈیل بنا کر ملک کے درو دراز اور پاسماندہ علاقوں کے بچوں کو تعلیم مہیا کرنے کے لیے جدو جہد کریں ۔